corona entertainment

آپ موضوع کا عنوان پڑھ کر یقیناً ششدر رہ گئے ہوں گے اور سوچ رہے ہوں گے بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔لیکن دنیا میں کئی ایسے ملک،لوگ اور قومیں موجود  ہیں جو انوکھے کارنامے سرانجام دے کر اپنا نام تاریخ میں رقم کر دیتے ہیں اور ان  قوموں کی فہرست میں ہمیں  نہ  شامل کیا  جائے تو یہ  زیادتی ہے۔   کرونا کی دنیا میں آمد ہونا تھی کہ ہم نے اس وائرس کے نام پر دنیا کی دکھی اور سہمی انسانیت کو اتنا لطف اندوز کیا کہ شاید یہ ہمارا احسان کبھی بھولا نہ پائیں اور عین ممکن ہے وائرس پر قابو پانے کے بعد ہمیں کسی ایوارڈ سے بھی نواز دیا جائے۔ ویسے حقدار تو ہم ہیں۔
جب دسمبر میں کرونا کی آمد کے اعلان نے دنیا میں کھلبلی مچائی تو ہم نے پہلے پہل ان والدین کی طرح تالیاں بجائیں اور قہقہے لگائے جن کا بچہ جب لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ چلنا سیکھتا ہے تو اسے بھاگ دوڑ سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ بچہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا اور آخرکار گر کر چوٹ کھاتا ہے اور ساتھ ہی بچے کی چیخ وپکار بلند  ہوتی ہے اور دوسری طرف والدین کا قہقہوں سے بھرپور طنز ہوتا ہے ہم نے نہ کہا تھا ایسا نہ کرنا اب کرو مزے۔ بس سمجھئے دنیا کی چیخ وپکار تھی اور ہمارا طنز ہم نے نہ کہا؟ نہ کرو ظلم، نہ کھاؤ حرام نہیں سنی نہ ہماری تو اب کرو عیاشی۔ دنیا ہمارے اس رویے پہ ہنسی اور یوں پریشان دنیا کے چہرے پر ہم نے پہلی  مسکراہٹ بکھیر  ڈالی۔
اللہ اللہ کر کے کرونا کی ہمارے ہاں آمد ہوئی دنیا بھر کے  ملکوں کے محتاط رویے کے  برعکس ہم  نے سوچا کیوں نہ کرونا کے  فرقے کا پتہ کیا جائے اس  کوشش میں کبھی کرونا کو زائرین تو کبھی تبلیغ جماعت والوں سے نتھی کیا گیا اور پھر آخر میں میں سب نے مل کر اعلان کیا کرونا کا کوئی مسلک و  فرقہ نہیں یہ سب کے لئے خطرناک ہے ہمارا یہ کہنا  تھا کہ   دنیا کی ایک بار پھر   بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی۔
کرونا کی سنگینی کا علم ہوتے ہی ملکی سربراہان نے قوم کو ڈرنا نہیں ہے لڑنے کا حکم صادر فرمایا ساتھ  ہی خود بغیر کوئی احتیاطی تدابیر اپنائے گلاسز پہن کر بیسیوں کیمروں کے سامنے ایک ہجوم میں کھڑے ہو کر سوشل ڈسٹنسنگ اور ماسک کو کرونا کی روک تھام کا حل بتایا دنیا ایک مرتبہ پھر ہماری ان قابل ذکر حرکتوں پر دل کھول کے ہنسی۔
جب قیادت نے سنجیدہ ہو کر فیصلہ کیا کہ اب کرونا کو روکنا ایک ٹاسک ہے اور اس کے لئے لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنائی جائے گی اس وقت تک عوام کرونا سے  لڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ یوں لاک ڈاؤن کا نفاذ ہونا تھا کہ چور پولیس گیم شروع۔ ایک ایک وین میں کئی پولیس اہلکار ساتھ ساتھ بیٹھ کر ایک ساتھ چلنے والے دو افراد کو بھی دور دور ہو کر چلنے کا درس دے رہے تھے،ناکے پر کھڑے اہلکار ڈبل سواری پر انتہائی غصے کا اظہار کر کہ یہ کہہ رہے تھے کہ تھوڑا آگے جا کر دوبارہ ساتھ بیٹھ کر چلے جانا تو کہیں لوگوں کو مرغا بنا کر مارچ کروا کر پرانی رسموں کو زندہ کیا جا رہا تھا قصہ مختصر دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کی انٹرٹینمینٹ کے چرچے تھے ۔
لاک ڈاؤن کے خاتمے کے دن قریب آئے تو محسوس ہوا کہ اب زندگی بور سی ہو جائے گی لیکن اس وقت تک   ہم طے کرچکے تھے حالات جیسے بھی ہوں ہم نے بس دنیا میں مسکراہٹیں بکھیرنی ہیں۔ منطق پیش کی گئی کہ کرونا سے زیادہ لوگ تو روزانہ روڈ ایکسیڈنٹ میں مرتے ہیں تو کیا روڈ بند کر دی جاتی ہیں جواب آیا نہیں تو پھر کرونا کی وجہ سے ایسا کیوں؟ ساتھ  ہی عالمی ادارہ صحت کی اس دلیل کو بھی پیش کیا گیا کہ ہمیں شاید اب کرونا وائرس کے ساتھ ہی جینا ہو گا اور یوں لاک ڈاؤن میں نرمی بلکہ لاک ڈاؤن میں خاتمے کا اعلان کیا گیا تو ہماری عوام نے ایک فیصلہ کیا کہ ہم نے کرونا کے ساتھ نہیں بلکہ کرونا کو زندگی کا لازمی حصہ بنا کر جینا ہے اور فیصلے پر عملدرآمد کے لئے عوام مارکیٹوں بازاروں میں کود پڑی ہے اب کی بار دنیا تھوڑی مسکرانے کے ساتھ محو حیرت بھی ہے اور ہم سے خوف بھی کہا رہی ہے۔ لیکن ڈر کس بات جب ہم ہیں ہی خطروں کے کھلاڑی اور کھیل ابھی  جاری ہی لائیو ایکشن کے لیے  اور مزید لطف اندوز ہونے کے لئے دنیا  ہم پر نظریں گاڑھے رکھے ہم مایوس نہیں کریں گے۔
کئی قابل ذکر مزاحیہ سین قلمبند نہیں کیا جا سکے کیونکہ الفاظ کے دامن میں اتنی کہاں گنجائش کہ ہمارے کارنامے سمیٹ پائے۔بس اب پتہ نہیں دنیا  ہمارے کئی اور کارناموں کی طرح  اس کارنامے کو بھی  بھولا تو نہ دے گی ؟

الفاظ اور ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔
تحریر ثاقب کیانی

Comments

Post a Comment